شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 18
شعب ابی طالب 18 اس ملکہ عالم کا مزار مکہ کے شمال میں واقع پہاڑ جون کے دامن میں ہے۔حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد کفار مکہ کی مخالفت میں تیزی آگئی راہ چلتے ہوئے آپ پر خاک ڈال دینا اُن کی تفریح تھی ایک دفعہ آپ کی ایک بیٹی آپ کا سر دھو رہی تھیں اور اس کسمپرسی پر زار زار رورہی تھیں تو آپ نے تسلی دی فرما یا۔بیٹی رونہیں اللہ تیرے باپ کی خود حفاظت کرے گا اور یہ سب تکلیفیں دور ہو جائیں گی۔(طبری) ایک دفعہ آپ صحن کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے آپ سجدے کی حالت میں تھے کہ ابو جہل کے اُکسانے پر عقبہ بن ابی معیط اُٹھا اور اونٹنی کا گندلا کر آپ کی کمر پر ڈال دیا یہ غلیظ خون آلود اور بوجھل تھا۔اتنا وزنی کہ آپ خود سجدے سے اٹھ نہ سکے۔لاڈلی بیٹی فاطمتہ الزہرا کو علم ہوا تو بھاگی ہوئی آئیں۔اور بڑی مشکل سے اپنے ابا جان کی کمر سے یہ بوجھ اُٹھایا تو آپ نے سجدے سے سر اٹھایا۔( بخاری باب تزویج النبی سایتم ) حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات کے بعد آپ " کا بہت وقت گھر اور بچوں کی نگہداشت میں گزرتا آپ کو دعوت الی اللہ کا کام کرنا تھا۔آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی که تو خودان حالات میں میری رہنمائی فرما میرا ہادی بن جا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاسنی آپ کو خواب آیا۔خواب میں آپ نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور آپ کے سامنے ایک سبز رنگ کا ریشمی رومال پیش کر کے عرض کیا کہ یہ آپ کی بیوی ہے دُنیا اور آخرت میں آپ نے رومال لیکر دیکھا تو اس پر حضرت عائشہ بنت ابوبکر کی تصویر تھی۔( بخاری )