شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 32
32 کا گفتگو کا انداز بہت متاثر کرنے والا تھا دنوں میں مدینہ کے لوگ گروہ در گروہ آکر شعب ابی طالب صعب اسلام قبول کرنے لگے۔(ابن ہشام جز واوّل جلد ثانی صفحه ۲۹۶) اگلے سال سلا نبوی کو ماہِ ذی الحجہ میں حج کے موقع پر اوس اور خزرج قبائل کے کئی سو آدمی مکہ آئے اُن میں ستر آدمی ایسے شامل تھے جو یا تو مسلمان ہو چکے تھے یا اب مسلمان ہونا چاہتے تھے اور آنحضرت سیلانی اپی تم سے ملنے کیلئے مکہ آئے تھے۔حضرت مصعب بن عمیر بھی اُن کے ساتھ تھے جو ایک سال کے بعد مکہ آئے تھے اُن کی والدہ حیات تھیں بیٹے کو کہلا بھیجا کہ مجھے آکر ملو مصعب نے جواب دیا میں ابھی رسول اللہ سے نہیں ملا آپ سے مل کر پھر تمہارے پاس آؤں گا“ چنانچہ وہ آنحضرت سلیم کے پاس حاضر ہوئے آپ سے مل کر اور ضروری حالات عرض کر کے پھر ا پنی ماں کے پاس گئے۔آنحضرت صلی ایم کو مصعب نے انصار مدینہ کے متعلق مفصل بتایا تھا۔اُن میں سے بعض لوگ الگ الگ آکر آپ سے ملے بھی تھے مگر آپ بعض وجوہات سے اُن سے اجتماعی ملاقات کرنا چاہتے تھے۔کچھ عرصہ سے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کا پیغام مل رہا تھا اور آپ کو اندازہ ہور ہا تھا کہ ہجرت مدینہ کی طرف ہوگی اس لئے آپ چاہتے تھے کہ اہل مدینہ کے مسلمانوں سے اُن کی رائے پوچھ لی جائے کہ وہ اتنی بڑی ذمہ داری اُٹھانے کیلئے تیار ہیں آپ کے ارشاد کے مطابق بڑی راز داری کے ساتھ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں مسلمان ۱۲ رذی الحجہ کو آدھی رات کے بعد پھر وادی عقبہ میں جمع ہوئے آپ بھی اپنے چا عباس کے ساتھ تشریف لائے اس دفعہ مدینہ کے مسلمانوں کی تعداد سے تھی اُن میں ۶۲ خزرج قبیلہ کے تھے اور گیارہ اوس قبیلہ کے ان میں دو خواتین بھی تھیں جن میں