شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 20
شعب ابی طالب 20 تب ایسے لگا کہ چاند دوٹکڑے ہو گیا ہے۔مگر یہ نشان دیکھ کر بھی انہوں نے حق کو نہ مانا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے۔قرآنِ کریم میں سورۃ قمر میں اس واقعہ کا ذکر ہے۔اللہ پاک سب قدرت رکھتا ہے وہ چاہے تو چاند دوٹکڑے ہو سکتا ہے مگر درحقیقت چاند دوٹکڑے نہیں ہوا تھا دیکھنے والوں کو ایسا نظر آیا تھا۔اس کو ایک کشفی نظارہ کہتے ہیں جس میں زیادہ لوگ شریک ہو گئے۔یا اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محمد صلی ا یتم کی سچائی کا ثبوت دینے کیلئے زمین پر ایسے حالات پیدا فرمائے مثلاً آتش فشاں کے پھٹنے سے بخارات کا اُٹھنا یا کسی بگولے وغیرہ کا آسمان کی طرف بلند ہونا جس سے وقتی طور پر اس طرح لگا کہ چاند دو حصوں میں بٹ گیا ہے۔اس نشان سے اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں کو یہ بھی بتایا کہ اب پرانی بادشاہتیں ختم ہوگئی ہیں سرداری صرف حضرت محمد سلی یا پیام کی ہو گی مکہ میں چاند سے ایک مطلب بادشاہت بھی لیا جاتا تھا۔حضرت رسول اللہ صلی ا ستم کا سفر طائف نبوت کا دسواں سال تھا۔یہ دس سال حضرت نبی کریم صلی شما یہ تم نے بدنصیب مکہ والوں کو خدائے واحد کی طرف بلانے کی ہر ممکن کوشش کی چند پاک نفوس آپ کے ساتھ شامل ہو گئے مگر زیادہ تر گمراہی میں غرق رہے۔وہ نہ آپ کی آواز سنتے تھے اور نہ دوسروں کو سننے دیتے تھے۔ان حالات میں آپ وہ فرض پوری طرح ادا نہیں فرما سکتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سونپا تھا۔اس لئے شعب ابی طالب سے اپنا قدم باہر رکھتے ہی آپ نے فیصلہ فرمایا کہ مکہ سے باہر کسی شہر میں جا کر اسلام کی تبلیغ فرمائیں اللہ تعالیٰ کی زمین بہت وسیع ہے اور آپ کو تو کل عالمین کے لئے رحمت و برکت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ابوطالب اور حضرت