شرح القصیدہ — Page 185
شرح القصيده ۱۸۵ مكفّر علماء کے جاہ و جلال اور شان و شوکت کا فتوای کفر دینے کے بعد سے لے کر ان کے فوت ہونے تک جو حشر ہوا وہ دنیا دیکھ چکی ہے۔اور احمدیت کے خلاف ان کی ساری کوششوں کے رائیگاں جانے کا تو احمدیت کے اشد ترین دشمنوں کو بھی علی الاعلان اقرار کرنا پڑا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ شہرت دی اور آپ کی جماعت کو فوق العادت ترقی عطا فرمائی۔وہ آج اکناف عالم میں پھیلی ہوئی ہے۔واشنگٹن ، شکاگو، اور دیگر امریکن ریاستوں اور شہروں میں لنڈن اور دیگر یورپین ممالک میں ، افریقہ اور ایشیا کے مختلف بلا دمیں پائی جاتی ہے اور بفضلہ تعالیٰ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔٢٦- للهِ دَرُكَ يَا إِمَامَ الْعَالَمِ انت السَّبُوقُ وَ سَيْدُ الشُّجَعَانِ ترجمہ۔آفرین اے پیشوائے عالم ! تو سب سے آگے بڑھا ہوا ہے اور تمام بہادروں کا سردار ہے۔( تشریح کے لئے دیکھو شعر نمبر ۹) -- أَنْظُرُ إِلَى بِرَحْمَةٍ وَ تَحَلُّنٍ يَا سَيِّدِى أَنَا أَحْقَرُ الْغِلْمَانِ معانی الالفاظ - تعلن - ترنم - شفقت۔