شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 157 of 198

شرح القصیدہ — Page 157

شرح القصيده ۱۵۷ میں ارض (زمین) کا لفظ بھی موجود ہے پھر بھی کوئی مفسر اس آیت میں رفع کے معنی آسمان پر لے جانے کے نہیں لیتا۔اور حدیث میں آتا ہے إِذَا تَوَاضَعَ الْعَبْدُ رفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ (كنز العمال) کہ جب کوئی بندہ خاکساری اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا ساتویں آسمان تک رفع کرتا ہے۔اس حدیث میں باوجود آسمان کا لفظ موجود ہونے کے کوئی شخص یہ معنے نہیں لیتا کہ خاکساری کرنے والا فی الحقیقت آسمان پر اُٹھا لیا جاتا ہے۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ، عربی زبان میں رفع الی اللہ کے معنے تقرب الہی اور رفع درجات کے ہیں۔مع جسم آسمان پر اٹھانے کے نہیں۔پس رفع کے لفظ سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔پھر میں نے کہا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ظاہری لحاظ سے تو وفات پاچکے ہیں لیکن روحانی افاضہ اور اثر و تاثیر کے لحاظ سے آپ زندہ ہیں اور مسیح مردہ۔کیونکہ ان کی پیروی سے اب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کر سکتانہ مکالمہ ومخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو سکتا ہے۔نہ ان کا دین زندہ ہے، نہ ان کی شریعت زندہ ہے اور نہ اب اُن کی رُوحانی تاثیر باقی ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا افاضہ روحانی اور تاثیر قدسی جاری ہے۔اور بندگانِ الہی اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔آپ کا دین زندہ ، آپ کی کتاب زندہ، آپ کی شریعت زندہ ، آپ کا افاضۂ روحانی و تاثیر روحانی زندہ ہے۔اس لئے آپ اور صرف آپ زندہ نبی ہیں۔اُس نے یہ سن کر کہا کہ یہ تو نئی بات ہے اور کچھ دیر گفتگو کر کے چلا گیا۔