شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 142 of 198

شرح القصیدہ — Page 142

شرح القصيده ۱۴۲ قاب عربی کے محاورہ میں کمان کے چلہ پر اطلاق پاتا ہے۔پس آیت کے بطور تحت اللفظ یہ معنے ہوئے کہ نزدیک ہوا۔یعنی خدا سے پھر اُترا یعنی خلقت پر۔پس اپنے اس صعود اور نزول کی وجہ سے دو قوسوں کے لئے ایک ہی و تر ہو گیا۔“ ( براہین احد یہ ہر چہار تص روحانی خزائن جلدا صفحه ۵۹۰،۵۸۹ حاشیه درحاشیه نمبر ۳) اس شعر میں یہی مضمون بیان کیا گیا ہے کہ آپ مخلوق اور خالق کے درمیان بطور واسطہ کے ہیں۔اب نہ تو کوئی شخص آپ کے دین کو اختیار کئے بغیر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتا ہے اور نہ کوئی عمل اس کے نزدیک قابل قبول ہوسکتا ہے جب تک کہ آپ کی شریعت کے مطابق نہ ہو اور آپ کے طریقہ پر نہ کیا جائے۔اور قصیدہ کے مطلع میں یہ بتایا تھا کہ اب فیضِ الہی کے حصول کا ذریعہ صرف آپ کا وجو د باجود ہے جو آپ کے چشمہ فیض سے نہیں پیتا وہ محروم از لی ہے کیونکہ باقی تمام چشمے خشک ہو چکے ہیں۔گویا آپ اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان ایسے مقام پر فائز ہیں کہ نہ کوئی شخص بغیر آپ کو واسطہ بنائے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتا ہے اور نہ فیض الہی کا مورد ہو سکتا ہے۔گو یا اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہونے کی آپ کو واسطہ بنائے بغیر کوئی صورت نہیں۔میرے نزدیک یہ شعر اور اس سے پہلا شعر اس قصیدہ کے بَيْتُ الْقَصِيد ہیں۔