شرح القصیدہ — Page 132
شرح القصيده ۱۳۲ اور اس خُلق کا جس رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور ہوا وہ غایت درجہ کامل اور بے نظیر ہے۔ایک دفعہ آپ ایک جنگ سے واپس آرہے تھے۔دوپہر کے وقت لشکر نے ایک جگہ قیام کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم علیحدگی میں ایک درخت کے نیچے لیٹ گئے۔آپ کے ساتھ جو صحابہ تھے وہ بھی اپنی اپنی جگہ تلاش کر کے آرام کرنے لگے۔آپ اپنی جگہ پرا کیلے تھے۔اچانک د غفور نامی ایک دشمن آپ کے پاس جا پہنچا۔اور آپ کی تلوار جو درخت میں لٹک رہی تھی اُس نے اپنے قبضہ میں کر لی۔اتنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے۔اور وہ بولا۔اے محمد ! بتا تمہیں اس وقت مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ ایسے وقت میں بڑے سے بڑے بہادر کے بھی اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔لیکن آپ کے توکل علی اللہ اور شجاعت کا تو عالم ہی اور تھا۔آپ نے فرمایا۔اللہ ! یہ اللہ کا لفظ ایسی جلالی شان اور رعب ناک آواز میں آپ کی زبان سے نکلا کہ اُس کا دل لرزا ، جسم کا نیا اور تلوار ہاتھ سے چھوٹ پڑی۔اب وہی تلوار آپ نے اُٹھا کر فرمایا۔بتا مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ اُس نے آپ ہی سے معافی چاہی اور آپ نے اس جانی دشمن کو معاف کر دیا۔یہ عفو کی کتنی اعلیٰ اور کتنی شاندار مثال ہے۔اسی طرح فتح مکہ کے دن وہ دشمن آپ کے سامنے پیش کئے گئے جنہوں نے آپ اور آپ کے ساتھیوں پر تیرہ سال تک انسانیت سوز مظالم کئے اور تین سال تک مکمل مقاطعہ جاری رکھا۔جائیدادیں چھین لیں۔اموال لوٹ لئے اور وطن سے نکال دیا۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ اب وہ سب کے سب ایسے آپ کے قابو میں تھے