شرح القصیدہ — Page 127
شرح القصيده ۱۲۷ مجھ سے مرعوب ہیں۔صحیح بخاری میں ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط قیصر روم کو ملا اور اُس نے ابو سفیان کو بلا کر کچھ حالات دریافت کئے تو اُس کی زبان سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے : لَقَد أَمِرَ أَمْرُ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ أَنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ کہ اس شخص کا معاملہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ رومیوں کا بادشاہ بھی اس سے خوف کھاتا ہے۔اسی طرح ایک شخص آپ کے روبرو پیش ہوا تو وہ آپ کے رعب سے تھر تھر کانپنے لگا تو آپ نے اُسے تسلی دیتے ہوئے فرما یا کہ مرعوب مت ہو ئیں تو ایک عورت کا بیٹا ہوں جو قدید یعنی سوکھا ہوا گوشت کھاتی تھی۔ان دو شعروں میں مصنف قصیدہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفاتِ عالیہ کو جمع کر دیا ہے۔اسی طرح آپ ایک اور قصیدہ میں فرماتے ہیں ؎ وَ في مُهْجَتِى قَوْرٌ وَجَيْشُ لِأَمْدَحَا سُلالَةَ انْوَارِ الْكَرِيمِ مُحَمَّدًا كَرِيمُ السَّجَايَا اكْمَلُ الْعِلْمِ وَالنُّهى شَفِيعُ الْبَرَايَا مَنْبَحُ الْفَضْلِ وَ الْهُدَى تَبَطَّرُ خَلِيلِي هَلْ تَرَى مِنْ مُشَاكِهِ بِتِلْكَ الصَّفَاتِ الصَّالِحَاتِ بِأَحْمَدَا بشير نَذِيرُ آمِرٌ مَانِعُ مَعا حَكِيمُ بِحِكْمَتِهِ الْجَلِيلَةِ يُقْتَدى اور میرے دل میں جوش اور ولولہ ہے کہ میں مدح کروں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جو خدائے کریم کے انوار کا خلاصہ ہے۔اعلیٰ خصائل والا ہے۔علم و عقل میں کامل ہے۔مخلوق کا شافع اور فضل و ہدایت