شرح القصیدہ — Page 57
شرح القصيده ۵۷ کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ اعلیٰ درجہ کا نور عطا کیا جو کسی اور مخلوق کو عطا نہ ہوا۔وہ کامل نور نہ فرشتوں میں تھا نہ ستاروں میں۔نہ قمر میں تھا نہ آفتاب میں۔وہ نہ لعل و یا قوت اور زمرد میں تھانہ الماس اور موتی میں۔الغرض وہ کسی چیز میں بھی نہ تھا۔ارضی ہو یا سماوی۔اور آپ کا نور اللہ تعالیٰ کے نور سے مُكتسب تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ آپ کے لئے بمنزلہ شمس اور آپ بمنزلہ بدر تھے۔پھر آپ آیت الرحمن تھے اس لئے آپ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن کا کامل مظہر تھے۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رحمانیت کے مطابق عالم ظاہری میں سورج، چاند ، پانی، ہوا اور دیگر اشیاء جن پر انسان کی زندگی موقوف ہے انسان کے لئے پیدا کیں اسی طرح اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اسی صفت کے مطابق قرآن مجید نازل کیا جس پر انسان کی روحانی زندگی موقوف ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیغام رحمانی کو اپنے جذ بہ فطری کے مطابق لوگوں تک پہنچایا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔" قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ (ص:۸۷) اے رسول ! تو ان سے کہہ دے کہ اس ہدایت کے کام پر میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف اور تصنع سے یہ کام کرتا ہوں۔“ پس آپ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن کے ایک نشان تھے۔آپ آهْدَى الْهُدَاةِ اس لئے تھے کہ دنیا میں جس قدر ہادی آئے ہیں اُن