شرح القصیدہ — Page 31
شرح القصيده ۳۱ مؤلف گلدستۂ کرامت مفتی غلام سرور صاحب حضرت شیخ کا مندرجہ بالا ارشاد نقل کر کے لکھتے ہیں: اس کلام فیض التیام سے ثابت ہوا کہ غوث الاعظم کی ذات رسول کی ذات میں فن تھی اور آپ ذاتا وصفا تا وقولاً وفعلاً وحالاً وكمالا فنافی الرسول تھے۔“ ( گلدستۂ کرامت مطبوعہ مطبع مفید عام لاہور ) حضرت احمد علیہ السلام مصنف قصیدہ کو بھی اپنے محبوب حضرت احمد صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی عشق اور کمال محبت کی وجہ سے مقامِ اتحاد حاصل تھا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔محو روئے او شدست ایں روئے من ہوئے او آید زبام و کوئے من بسکه من در عشق ہستم نہاں من همانم 6 من همانم من ہماں جان من از جان یابد غذا از گریبانم عیاں شد آں وکا احمد اندر جان احمد پدید وحید من گردید آں (سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۹۷) یعنی یہ میرا چہرہ اس کے چہرہ میں محوا ور گم ہو گیا اور میرے مکان اور گوچہ سے اس کی خوشبو آ رہی ہے۔از بسکہ میں اس کے عشق میں غائب ہوں۔میں وہی ہوں ، میں وہی ہوں، میں وہی ہوں۔میری روح اس کی رُوح سے غذا حاصل کرتی ہے اور میرے گریبان سے وہی سورج نکل آیا ہے۔