شرح القصیدہ — Page 32
شرح القصيده احمد کی جان کے اندر احمد ظاہر ہو گیا۔اس لئے میرا وہی نام ہو گیا جو اس لاثانی انسان کا نام ہے۔حیات جاودانی اس حالت میں عاشق صادق اور محبت کامل اپنے محبوب میں فنا ہو کر وہ زندگی پاتا ہے جو محبوب کو حاصل ہوتی ہے اور اس شعر کا مصداق بن جاتا ہے۔ہرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق ثبت است بر جریده عالم دوام ما اور ایسے فنا فی الحبوب کی محبت دائم و قائم رہتی ہے اور موت وفنا سے آزاد ہو جاتی ہے۔مصنف قصیدہ حضرت بانی جماعت احمدیہ کو اپنے محبوب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی غیر فانی محبت تھی جو حضور کے اس شعر کی مصداق ہے۔اِنّي آموتُ وَ لَا تَمُوتُ مَحَبَّتِي يدرى بِذِكْرِكَ فِي التُّرَابِ نِدَائِي یعنی اے میرے محبوب ! اگر چہ میں وفات پا جاؤں گا لیکن میری محبت ہمیشہ زندہ رہے گی اور اس پر کبھی موت وارد نہ ہو گی اور زمین میں پڑے ہوئے لوگوں کی جب آواز میں سنائی دیں گی تو میری آواز تیرے ذکر سے شناخت کی جائے گی۔دوسرے لوگ تو اپنے اور دلبروں کا نام لے رہے ہوں گے لیکن میری زبان پر تیرا نام ہوگا اور وہ