شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 96 of 198

شرح القصیدہ — Page 96

شرح القصيده ۹۶ استعمال کی گئی ہے۔کیونکہ شعر نمبر ۲۵ میں پہلے شراب کا ذکر تھا پھر عورتوں کی بہتات کا۔لیکن تفصیل بیان کرتے ہوئے پہلے عورتوں کا ذکر کیا پھر شراب کا۔جیسے سورۃ الدھر کی آیت إِمَّا شَاكِرًا وَ إِمَّا كَفُورًا (الدهر : ۴) کہہ کر پہلے کا فروں کا ذکر کیا پھر ابرار کا۔اس شعر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عظیم الشان کارنامہ کا ذکر ہے جو معجزہ سے کسی طرح کم نہیں۔عرب قوم کے نوشی کی سخت عادی تھی اور اُن کی شراب نوشی زبان زدِ خلائق تھی۔وہ کے نوشی اور اس کے نشہ سے مدہوش ہونے کو فخر یہ بیان کیا کرتے تھے۔ان کے قصائد کے نوشی کے ذکر سے پر ہیں۔لبید بن ربیعہ اپنی شراب نوشی پر فخر کرتے ہوئے کہتا ہے۔بادرت حَاجَتها الدجاج بسخرة لا عَلَّ مِنْهَا حِيْنَ هَبَ نِيَامُها یعنی میں نے مرغ سے بھی جو بہت صبح سویرے اٹھتا ہے سبقت کرتے ہوئے سحری کے وقت شراب پی۔اس لئے نہیں تا لوگ مجھے دیکھ کر شراب نوشی کا طعنہ نہ دیں بلکہ اس لئے کہ جب رات کے سوئے ہوئے صبح کو میخانے میں آکر شراب نوش کریں تو میں اُن سے فخریہ کہہ سکوں کہ تم تو پہلی بار شراب پی رہے ہو اور میں دوسری بار۔اور عمرو بن كلثوم تغلبی اپنے معلّقہ میں کہتا ہے۔أَلا هُتِى بِصَحْنِكِ فَاصْبَحِينَا وَ لَا تُبْقِى خُمُورَ الْأَنْدَرِينَا وَكَأْسٍ قَدْ شَرِبْتُ بِبَعْلَبَكَ وَ أُخْرَى فِي دِمَشْقَ وَ قَاصِرِينَا یعنی اے محبوبہ ! شراب کا پیالہ لے کر اُٹھ اور قصبہ اندرین کی