شرح القصیدہ — Page 89
شرح القصيده ۸۹ مشہورشاعر لبید بن ربیعہ اپنے معلّقہ میں اپنی محبوبہ کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے۔بَلْ أَنْتِ لَا تَدُرِينَ كُمْ مِّنْ لَيْلَةٍ طَلْقٍ لَذِيدٍ لَهُرُهَا وَ نِدَامُهَا قد بتُ سَامِرَهَا وَ غَايَةِ تَاجِرٍ وَافَيْتُ إِذْ رُفِعَتْ وَ عَزَّ مُدَامُهَا اغْلِي السَّبَاءِ بِكُلِ اذْكَنَ عَاتِقِ أَوْ جَوْنَةٍ قُدِحَتْ وَ فُضَّ خِتَامُهَا وَ صَبُوْحٍ صَافِيَةٍ وَ جَلْبٍ كَرِينَةٍ يَمُوثَرٍ تَأْتَا لَهُ ابْهَامُهَا یعنی اے میری محبوبہ ! تو نہیں جانتی کہ کتنی ہی خوشگوار راتیں جن کی خوش رنگی اور ئے نوشی کی مجلس نہایت لذیذ تھی ندماء کے ساتھ گزاریں۔اور کتنی ہی دفعہ میں میخانہ میں آیا اور خمار کا جھنڈا دکان پر بلند کیا گیا اور میں نے اتنی شراب پی اور پلائی کہ اس کا ملنا مشکل ہو گیا۔میں ہر قدیم مشکیزے کی پرانی شراب کے مہنگا ہونے یا بڑے مٹکے کی شراب کی جس کی مہر توڑی گئی ہو گرانی کا باعث ہوتا ہوں۔صبح کی مصفا اور خالص شراب اور نو جوان لڑکی کے اپنے انگوٹھے سے سرنگی کی تاروں کے تاتا کی آواز نکالنے کی کشش سے ( یعنی گانے سے بار ہا متمتع ہوا۔اسی طرح عمرو بن العبد البکر کی اپنے معتلقہ میں کہتا ہے۔فَلَوْلا ثَلَاثُ هُنَّ مِنْ عِيْشَةِ الفَتَى وَجَيكَ لَمْ أَحْفِلْ مَتَى قَامَ عُوَّدِى فَمِنْهُنَّ سَبْقَى الْعَاذِلَاتِ بِشَرْبَةٍ حُمَيْتٍ مَتَى مَاتُعَلَ بِالْمَاءِ تُزيد وَ كَرِى إِذَا نَادَى الْمُضَافُ مُجَنَّبًا كَسِيدِ الْغَضَا نَبَّبْتَهُ الْمُتَوَرِّدِ وَتَقْصِيرِ يَوْمِ الدَّجْنِ وَالدَّجْنُ مُعْجِبْ بِبَهكَنَةٍ تَحْتَ الْخِبَاءِ الْمُعَمَّدِ یعنی اگر تین باتیں جو ان کی لذت زندگی سے نہ ہوتیں تو میں اپنی موت کی قطعاً کوئی پرواہ نہ کرتا۔ان میں سے ایک تو سرخ شراب کے پینے میں سبقت لے جانا