شرح القصیدہ — Page 84
شرح القصيده الْعِقْيانُ - خالص سونا۔۸۴ ترجمہ۔تو نے انہیں ایسی قوم پایا جو گو بر کی طرح ذلیل تھی۔پھر تو نے انہیں خالص سونے کی ڈلی کی مانند بنادیا۔شرح۔اس شعر میں اہل عرب کی قبل از اسلام حالت کولید یا گوبر سے تشبیہ دی ہے یعنی حد درجہ ذلیل تھے۔اقوامِ عالم میں ان کی کوئی قدرو قیمت نہ تھی لیکن اے میرے آقا ! تیری صحبت ، تیری رفاقت اور تیری متابعت نے ان کو خالص سونے کی ڈلی کی مانند بنا دیا اور اقوام عالم میں انہیں وہ درجہ اور مقام حاصل ہوا جس کی نظیر پہلوں اور پچھلوں میں تلاش کرنا بے سود ہے۔۲۲۔حَتَّى انْثَى بَةٌ كَمِثْلِ حَدِيقَةٍ عَلبِ الْمَوَارِدِ مُقيرِ الْأَغْصَانِ معانی الالفاظ - حديقة - باغ یا باغیچہ کو کہتے ہیں جس کی حفاظت کے لئے چاروں طرف دیوار ہو۔اس کی جمع حدائقی ہے۔عد ب۔ہر کھانے اور پینے کی چیز جو بہ آسانی حلق سے نیچے اُتر جائے۔مَاءٍ عَذَب - نہات اچھا پانی - اَلْمَوَارِدُ۔مَورڈ کی جمع ہے۔پانی کے لئے وارد ہونے کی جگہ یعنی گھاٹ، پانی تک پہنچنے کا رستہ ، مراد پانی ہے۔ترجمہ۔یہاں تک کہ عرب کا چٹیل میدان اُس باغ کی مانند ہو گیا جس کے