شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 82 of 198

شرح القصیدہ — Page 82

شرح القصيده ۸۲ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد الْجَنَّةُ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ (بخاری کتاب الجهاد والسير باب لا تمنوا لقاء العدوّ ) پر صحابہ کا پختہ ایمان تھا۔وہ سمجھ گئے تھے اور اُن کے دلوں پر نقش ہو گیا تھا کہ جنت راحت و آسائش اور عیش و عشرت کی زندگی سے نہیں بلکہ دشمن کی کچھی ہوئی تلواروں کے سایہ میں زندگی بسر کرنے سے حاصل ہوتی ہے اور انہوں نے میدانِ جنگ میں اپنی جانوں کی جو قربانی پیش کی وہ اپنے اصل معنی میں قربانی ثابت ہوئی کیونکہ صرف یہی نہیں کہ وہ شہادت کا درجہ حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کے مقرب ہو گئے بلکہ اُن کی یہ قربانیاں دوسرے لوگوں کے لئے بھی مقرب الہی حاصل کرنے کا موجب بنیں اور بنتی چلی جائیں گی۔جنگوں میں اُن کا جو خون بہا اُس کے بیش بہا نتائج وفوائد اُن کی ذات تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ اُس نے اسلامی باغ کو سینچا، سرسبز و شاداب کیا اور مثمر ثمرات بنادیا۔۲۰- جَاءُوكَ مَنْهُوبِينَ كَالْعُرْيَانِ فَسَتَرْتَهُمْ يَمَلَاحِفِ الْإِيْمَانِ معانی الالفاظ - ملاحِف - مِلْحَقَةٌ کی جمع ہے۔ہر وہ چیز جو اوڑھی جاتی ہے۔لباس اور جو لباس کے اوپر ہو۔چادر وغیرہ۔ترجمہ۔وہ تیرے پاس لئے ہوئے مانند بر ہنہ آئے۔اور تو نے انہیں ایمان کے لباس پہنائے اور چادریں اوڑھا دیں۔