شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 78 of 198

شرح القصیدہ — Page 78

شرح القصيده LA امر کا پورا احساس تھا کہ ایمان اور یقین کی دولت بغیر صفائی باطن نہ حاصل ہوسکتی ہے اور نہ کوئی فائدہ دے سکتی ہے۔اس لئے انہوں نے اپنے باطن کو حد درجہ صاف اور پاک کیا تھا۔ان کی صفائی باطن کا اندازہ اس مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک شخص زنا کا مرتکب ہوتا ہے اور اُسے معلوم ہے کہ اُس کی سزا رجم ہے لیکن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا اور زنا کا اعتراف کرتے ہوئے کہتا ہے طهرني يَا رَسُولَ الله - اے اللہ تعالیٰ کے رسول میں گناہ کا ارتکاب کر کے نا پاک ہو گیا ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ یہ ناپاکی کا داغ مجھ پر قائم رہے اس لئے اس کی حد قائم کر کے مجھے پاک کیجئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے دریافت فرماتے ہیں۔کیا تو مجنون تو نہیں؟ وہ نفی میں جواب دیتا ہے۔جب چار دفعہ وہ اس گناہ کا اقرار کر چکا تو آپ نے اس پر زنا کی حد قائم کرنے کا حکم دیا۔اس مثال سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں طہارت باطنی کا کس قدر خیال تھا۔قَامُوا بِأَقْدَامِ الرَّسُولِ بِغَزُوهِم كَالْعَاشِقِ الْمَشْخُوفِ فِي الْمَيْدَانِ -١٩ فَدَمُ الرِّجَالِ لِصِدْقِهِمْ في حَيْهِم تحت السُّيُوفِ أُرِيقَ كَالْقُرْبَانِ معانى الالفاظ - الْمَشْعُوفُ : شَعَفَ حُبَّهُ اس کی محبت سویدائے