شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 74 of 198

شرح القصیدہ — Page 74

شرح القصيده وو ۷۴ ان غریب مومنوں پر ظلم وستم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔لوگ انہیں پکڑ کر جنگل میں لے جاتے اور برہنہ کر کے شدت کی دھوپ میں جلتی تپتی ریت پر لٹا دیتے اور ان کی چھاتیوں پر پتھر کی سلیں رکھ دیتے۔وہ گرمی کی آگ سے تڑپتے۔مارے بوجھ کے زبان باہر نکل پڑتی۔بہتیروں کی جانیں اس عذاب سے نکل گئیں۔۔۔۔۔۔۔انہیں مظلوموں میں ایک شخص عماد تھے جسے اس حوصلہ وصبر کی وجہ سے جو اُس نے ظلموں کی برداشت میں ظاہر کیا حضرت عمار کہنا چاہیے۔ان کی مشکیں باندھ کر انہیں پتھر یلی تپتی زمین پر لٹاتے تھے۔۔۔اور حکم دیتے تھے کہ محمد کو گالیاں دو۔یہی حال ان کے بڑھے باپ کا کیا گیا۔اس مظلوم کی بی بی سے جس کا نام شمیہ تھا یہ ظلم نہ دیکھا گیا اور وہ عاجزانہ فریا د زبان پر لائی۔اس پر وہ بے گناہ ایماندار عورت جس کی آنکھوں کے رُو برواس کے شوہر اور جوان بچے پر ظلم کیا جاتا تھا بر ہنہ کی گئی اور اسے سخت بے حیائی سے ایسی تکلیف دی گئی جس کا بیان کرنا بھی داخل شرم ہے۔آخر اس عذاب شدید میں تڑپ تڑپ کر اس ایماندار بی بی کی جان نکل گئی۔“ سوانح عمری حضرت محمد جی صفحه ۳۴، ۳۵) ایمان لانے والوں پر تیرہ برس کی مدت تک ایک باقاعدہ سکیم کے ماتحت درد ناک مظالم کئے گئے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔نہایت بے رحمی کی طرز سے خدا کے وفادار بندے اور نوع انسان کے فخر ان شریر درندوں کی تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور یتیم بچے اور عاجزا اور مسکین عورتیں کو چوں اور گلیوں میں ذبح کئے گئے۔اس پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے قطعی طور پر یہ تاکید تھی کہ شر کا ہرگز مقابلہ نہ کرو۔چنانچہ اُن برگزیدہ راستبازوں نے ایسا ہی کیا۔اُن کے خونوں سے گوچے سُرخ ہو گئے