شرح القصیدہ — Page 66
شرح القصيده 66 یا اُن کا کنبہ اور خاندان۔“ ۶۶ اس کے ثبوت میں دو تاریخی واقعات کا ذکر کرتا ہوں:۔(۱) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبدالرحمن جو غزوہ اُحد تک ایمان نہیں لائے تھے مسلمان ہونے کے بعد ایک دن آپ سے کہنے لگے کہ آپ ایک مرتبہ جنگ میں میری زد میں تھے لیکن اس خیال سے کہ آپ میرے باپ ہیں میں نے آپ پر وار نہ کیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فی الفور جواب دیا کہ بخدا اگر تم میری زد میں آجاتے تو میں ضرور تم کوقتل کر دیتا اور کچھ لحاظ نہ کرتا۔کیونکہ تم اُس وقت خدا کے رسول سے جنگ کرنے کے لئے آئے تھے۔(۲) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنی والدہ سے بہت حسنِ سلوک کرتے تھے۔آپ کے مسلمان ہو جانے پر اُس نے سخت مخالفت کی اور جب دیکھا کہ میری کوئی نصیحت کارگر نہیں اور سعد کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہیں آتی تو اُس نے کھانا چھوڑ دیا اور کہا کہ میں اس وقت تک کھانا نہ کھاؤں گی جب تک کہ تم اسلام کو ترک نہ کر دو۔اور ایسا نہ ہوا تو میں اس حالت میں مرجاؤں گی اور لوگ تمہیں اپنی ماں کا قاتل کہیں گے۔آپ نے ہر چند کوشش کی کہ وہ کھانا کھا لے مگر اُس نے نہ کھایا۔تب آپ نے تیسرے دن اُس سے کہا کہ وَاللهِ لَوْ كَانَتْ لَكِ مِائَةُ نَفْسٍ فَخَرَجَتْ نَفْسًا نَفْسًا مَا تَرَكْتُ دِينِي هَذَا لِشَيْءٍ - اللہ تعالیٰ کی قسم اگر تیری ایک جان کی جگہ سو جانیں ہوں اور ایک ایک جان کر کے نکل جائیں تو بھی میں اپنے دین کو کسی چیز کی خاطر نہیں چھوڑوں گا۔اب تو کھانا کھا یا نہ کھا۔جب اُس