شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 62 of 198

شرح القصیدہ — Page 62

شرح القصيده ۶۲ پہچانا جاتا ہے (متی ۳۳/ ۱۲) اس لئے مصنف قصیدہ اپنے محبوب کے ذاتی اوصاف وکمالات کا ذکر کر کے آپ کی صداقت اور آپ کی عظمت اور جلالتِ شانِ رسالت کی دلیل کے طور پر اس شعر سے لے کر انیسویں شعر تک آپ کی جماعت کے اعلیٰ درجہ کے نمونے کو پیش کرتے ہیں۔میور جیسے متعصب دشمن اسلام نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے دانا، زیرک اور معزز تھے۔اسی طرح بعض اور صحابہ بھی اپنے خاندان اور شہر میں صاحب الرائے اور معزز سمجھے جاتے تھے۔پھر صحابہ نے جس رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی پہلے انبیاء کی جماعتوں میں اس کی نظیر تلاش کرنا بے سود ہے۔بنی اسرائیل کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ فرعون کے پنجہ استبداد سے نجات بخشی تھی جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بوجب وعدہ الہی ارضِ مقدسہ میں داخل ہو جانے کا حکم دیا تو انہوں نے تعمیل حکم نہیں کی بلکہ گستاخانہ رویہ اختیار کر کے کہ دیا کہ تم اور تمہارا خدا جائیں اور دشمن سے جنگ کریں ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔لیکن جب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر انصار سے جنہوں نے مدینہ کے اندر رہ کر مہاجرین کی حفاظت کا معاہدہ کیا تھا مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کرنے کے متعلق دریافت فرمایا تو انہوں نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ! ہم موسیٰ “ کے ساتھیوں کی طرح آپ سے یہ نہیں کہیں گے کہ آپ اور آپ کا رب جا کر دشمن سے جنگ کریں ہم تو یہیں بیٹھے ہیں بلکہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی ، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک کہ وہ ہماری لاشوں پر