شرح القصیدہ — Page 61
شرح القصيده ۶۱ ہنگامہ میں میرا ہر قسم کے ضرر و گزند سے محفوظ رہنا کتنا ہی مافوق العادت سمجھا جائے لیکن اس کے یہ معنے ہرگز نہیں کہ الوہیت مجھ میں سرایت کر گئی ہے یا کوئی حصہ الوہیت مجھ میں آگیا ہے۔میں ایک انسان اور عبد المطلب کا پوتا ہوں۔تاریخ میں صحابہ رضوان اللہ عنہم کا اقرار موجود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن سب سے زیادہ بہادر تھے۔پس مذکورہ بالا دوشعروں میں آپ کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ حقائق تاریخیہ ہیں۔١٠ وَقَدِ اقْتَفَاكَ أُولُو النُّهى وَ بِصِدْقِهِمْ وَ دَعُوا تَذَكُرَ مَعْهَدِ الْأَوْطَانِ معانی الالفاظ - افتقاه - اتبعۂ۔اس کی پیروی کی۔اقتفى الشيء اخْتَارَہ۔اسے چن لیا اور پسند کیا۔مَعْهَد۔وہ مقام جس میں کوئی ایسی چیز ہو جس کا خیال رکھا جاتا ہے یا وہ جگہ جہاں لوگ آتے جاتے ہیں۔اس کی جمع مَعَاهِدُ ہے۔مراد یادگاریں ، زیارت گا ہیں اور گھر وغیرہ۔ترجمہ۔دانشمندوں نے پیروی کے لئے تجھے منتخب کر لیا اور اپنے صدق کی وجہ سے انہوں نے اپنے وطنوں کی یادگاروں کی یاد بھی ترک کر دی۔شرح۔حضرت عیسی علیہ السلام کا مقولہ ہے درخت اپنے پھل ہی سے