شرح القصیدہ — Page 30
شرح القصيده انداز اور اس کے طور و طریق اور اس کے شمائل واخلاق کے رنگ سے رنگین ہو جاتا ہے اور جس قدر زیادہ محبت ہوتی ہے اسی قدر اپنے محبوب کی صفات کی طرف کھینچا جاتا ہے حتی کہ وہ اُسی کا نمونہ بن جاتا ہے۔اور جب یہ کیفیت ہو جاتی ہے تو محبت اور محبوب کے درمیان سے دوئی کا پردہ اُٹھ جاتا ہے۔جیسا کہ ایک بزرگ نے کہا ہے۔من تو شدم تو من شدی شدی من تن شدم جاں تموید بعد ازیں تا دیگری من دیگرم اسی طرح حضرت امام ربانی مجد دالف ثانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مقتضائے کمال محبت رفع اثنینیت ست و اتحاد محب و محبوب یعنی کمال محبت کا مقتضا یہ ہے کہ محبت اپنے محبوب کے رنگ میں رنگین ہو کر دوئی کو اٹھا دیتا ہے اور محب و محبوب آپس میں متحد ہو جاتے ہیں۔چنانچہ محبوب سبحانی حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ اپنے متعلق فرماتے ہیں:۔566 " هَذَا وُجُودُ جَدّى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وُجُودَ عَبْدَ الْقَادِرِ یعنی یہ عبدالقادر کا وجود نہیں بلکہ یہ میرے جد امجد محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے۔ے مکتوبات امام ربانی جلد ۳ صفحه ۱۵ مکتوب نمبر ۸۸ صفحه ۱۴۷ مطبوعه در مطبع نامی گرامی منشی نول کشور واقع کانپور سے۔کتاب مناقب تاج الاولیاء مطبوعہ مصر صفحه ۳۵