شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 191 of 198

شرح القصیدہ — Page 191

شرح القصيده ۱۹۱ نے اس رنگ میں توحید الہی کی اشاعت کے لئے قربانیاں کیں کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ نے شہادت دی کہ آپ کی نماز اور آپ کی ہر قسم کی قربانیاں اور آپ کی زندگی اور آپ کی موت سب خدائے رب العالمین کے لئے تھیں اور دوسری طرف آپ کے مخالفوں نے بھی اعتراف کیا ” قَدْ عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ “ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو اپنے ربّ کے عاشق زار ہیں۔لیکن کلمہ کی دوسری مجز جو رسالت محمدیہ پر مشتمل ہے جس میں ”محمد“ نام کا ذکر ہے جس کے معنے ہیں کثرت سے تعریف کیا گیا اس میں جو حقیقت پائی جاتی ہے اس کا کامل ظہور اس زمانہ میں مقدر تھا۔جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر پادریوں اور مغربی فلاسفروں کی طرف سے اور آریوں کی طرف سے ہر قسم کے ناپاک حملے اور گندے اعتراضات کئے گئے اور اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں ”محمد“ کی تعریف اور آپ پر حملہ کرنے والوں کے مقابلہ کے لئے آپ کے روحانی فرزند حضرت میرزا غلام احمد مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام مصنف قصيدة لهذا کو مبعوث فرما یا تا دنیا سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیسی عظمت وشان عطا فرمائی ہے اور کیسا عالی مرتبہ نبی بنایا ہے۔تا دنیا کو معلوم ہو جائے کہ آپ اس کے کتنے بڑے محسن ہیں اور آپ کو قبول کرنے اور آپ کی تعلیم پر عمل پیرا ہونے میں کیا کیا فوائد ہیں۔تا دنیا پر گھل جائے کہ قرب الہی جس پر فلاح اخروی موقوف ہے صرف آپ کی پیروی سے حاصل ہوسکتا ہے اور تا یہ امر دنیا کے ذہن نشین ہو جائے کہ آپ دنیا کے لئے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت ہیں اور پھر دنیا آپ کی تعریفوں سے ایسی بھر جائے جیسا کہ پانی سے سمندر۔