شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 184 of 198

شرح القصیدہ — Page 184

شرح القصيده ۱۸۴ اُسے اللہ تعالیٰ نے حد درجہ ذلیل کیا۔حضرت امام جماعت احمد یہ تفسیر کبیر میں اس کے متعلق فرماتے ہیں:۔" انہوں نے ایک دفعہ بڑی تعلی کے ساتھ کہا تھا کہ میں نے ہی مرزا صاحب کو اونچا کیا تھا اور اب میں ہی ان کو نیچے گراؤں گا۔مگر اس کے بعد انہوں نے حضرت مرزا صاحب کو کیا گرانا تھا خود ہی ذلیل ہوتے گئے یہاں تک کہ اُن کے دو بیٹے بھاگ کر قادیان میں میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ہمارا باپ اتنا بے غیرت ہے کہ وہ ہمیں کہتا ہے ہم کسی یتیم خانہ میں داخل ہو جائیں۔وہ ہمیں ہر وقت مارتا پیٹتا ہے اور ہم سے ذلیل کام لیتا ہے۔ہم اب اُس کے پاس نہیں رہنا چاہتے۔میں نے ان دونوں کا وظیفہ لگادیا اور انہیں قادیان میں تعلیم دلائی۔مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے کہلا بھیجا کہ اس میں میری بڑی ذلت ہے ان کو قادیان سے نکال دیں۔مگر میں نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ میرے پاس مدد کے لئے آئیں اور میں اُن کو نکال دوں۔اس کے بعد وہ دونوں احمدی ہو گئے۔اور آخر مولوی صاحب زور دے کر اُن کو واپس لے گئے۔مگر پھر بھی اُن سے ایسا سلوک کیا کہ اُن میں سے ایک تو مر گیا ہے اور دوسرا عیسائی ہو گیا اور اب تک زندہ ہے اور ریاست میسور میں کاروبار کرتا ہے۔“ ( تفسیر کبیر - تفسیر سورۃ الغاشیه زیر آیت ۵)