شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 180 of 198

شرح القصیدہ — Page 180

شرح القصيده ۱۸۰ ترجمہ۔اے میرے آقا !میں بے بس مظلوم فریادی بن کر تیرے دروازے پر حاضر ہوا ہوں بحالیکہ قوم نے مجھے کافر کہہ کر سخت ستایا ہے۔شرح۔غور کرو اس شخص کے دل کی کیفیت کیا ہوگی جو ایک بار نہیں صد ہا بار وو اقرار کرتا ہے کہ مجھے جو کچھ ملا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی برکت سے ملا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ نبی ہونے اور اسلام کے زندہ مذہب ہونے اور قرآن مجید کے زندہ کتاب ہونے کی دلیل ہے اور اس نے اپنی ساری زندگی خدمتِ اسلام اور دیگر مذاہب پر اس کی فوقیت اور برتری ثابت کرنے میں گزاری ہو لیکن پھر بھی وہ ان لوگوں کی طرف سے جو اپنے آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہیں بے حد و بے نہایت ستایا گیا۔لعنت و ملامت کے تیروں کا نشانہ بنایا گیا۔کذاب ومفتری و کافر ٹھہرایا گیا۔اُس کا نام دقبال اور شیطان رکھا گیا۔مجلسوں میں نفرین کے ساتھ پکارا گیا۔ہر ایک نے اُسے گالی دینا اجر عظیم سمجھا۔آخر وہ اپنے محبوب سے شکوہ کرتا ہے کہ اے میرے محبوب! اِن لوگوں نے جو اپنے آپ کو تیری طرف منسوب کرتے ہیں میری حد درجہ تکفیر و تکذیب کی ہے۔اسلئے میں تیرے دربارِ عالی سے دادرسی کا خواہاں ہوں۔آپ کے وقت کے مشہورا کا بر علماء کے چند فقرات ملاحظہ ہوں۔جو انہوں نے اپنے فتووں میں ۱۸۹۱ء میں استعمال کئے ہیں۔شیخ الکل مولوی سید نذیر حسین اور دیگر علماء نے لکھا:۔