شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 177 of 198

شرح القصیدہ — Page 177

شرح القصيده اور فرماتے ہیں:۔122 ” پادریوں کی تکذیب انتہا تک پہنچ گئی تو خدا نے حجت محمد یہ پوری کرنے کے لئے مجھے بھیجا۔اب کہاں ہیں پادری تا میرے مقابل پر آویں۔میں بے وقت نہیں آیا۔میں اس وقت آیا کہ جب اسلام عیسائیوں کے پیروں کے نیچے کچلا گیا۔۔۔۔۔۔۔اور کئی لاکھ مسلمان مرتد ہو کر خدا اور رسول کے دشمن ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھلا اب کوئی پادری تو میرے سامنے لاؤ جو یہ کہتا ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی پیشگوئی نہیں کی۔یادرکھو کہ وہ زمانہ مجھ سے پہلے ہی گزر گیا۔اب وہ زمانہ آ گیا جس میں خدا یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ رسول محمد عربی جس کو گالیاں دی گئیں ، جس کے نام کی بے عزتی کی گئی ، جس کی تکذیب میں بدقسمت پادریوں نے کئی لاکھ کتا ہیں اس زمانہ میں لکھ کر شائع کر دیں وہی سچا اور سچوں کا سردار ہے۔اس کے قبول میں حد سے زیادہ انکار کیا گیا مگر آخر اُسی رسول کو تاج عزت پہنایا گیا اس کے غلاموں اور خادموں میں سے ایک میں ہوں جس سے خدا مکالمہ مخاطبہ کرتا ہے اور جس پر خدا کے غیبوں اور نشانوں کا دروازہ کھولا گیا ہے۔اے نادانو! تم کفر کہو یا کچھ کہو تمہاری تکفیر کی اس شخص کو کیا پروا ہے جو خدا کے حکم کے موافق دین کی خدمت میں مشغول ہے اور اپنے پر خدا کی عنایات کو بارش کی طرح دیکھتا ہے۔“ (حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۸۶) اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور تاثیر قدسی کی برکت