شرح القصیدہ — Page 176
شرح القصيده طرف صرف میں اکیلا اپنے خدا کی جناب میں کسی امر کے لئے رجوع کروں تو خدا میری ہی تائید کرے گا مگر نہ اس لئے کہ سب سے میں ہی بہتر ہوں بلکہ اس لئے کہ میں اس کے رسول پر دلی صدق سے ایمان لایا ہوں اور جانتا ہوں کہ تمام نبوتیں اُس پر ختم ہیں اور اُس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اُس کے چراغ میں سے ٹور لیتی ہے وہ ختم نہیں کیونکہ وہ محمدی نبوت ہے یعنی اس کا ظل ہے ، اور اُسی کے ذریعہ سے ہے اور اُسی کا مظہر ہے اور اُسی سے فیضیاب ہے۔خدا اُس شخص کا دشمن ہے جو قرآن شریف کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہے اور محمدی شریعت کے برخلاف چلتا ہے اور اپنی شریعت چلانا چاہتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا بلکہ آپ کچھ بنا چاہتا ہے مگر خدا اس شخص سے پیار کرتا ہے جو اس کی کتاب قرآن شریف کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اس کے رسول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو در حقیقت خاتم الانبیاء سمجھتا ہے اور اس کے فیض کا اپنے تئیں محتاج جانتا ہے۔پس ایسا شخص خدا تعالیٰ کی جناب میں پیارا ہو جاتا ہے اور خدا کا پیار یہ ہے کہ اُس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کو اپنے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کرتا ہے اور اس کی حمایت میں اپنے نشان ظاہر کرتا ہے اور جب اس کی پیروی کمال کو پہنچتی ہے تو ایک ظلی نبوت اس کو عطا کرتا ہے جو نبوت محمدیہ کا ظل ہے۔“ (چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۳۹، ۳۴۰)