شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 175 of 198

شرح القصیدہ — Page 175

شرح القصيده ۱۷۵ جھوٹ بولنا سخت بد ذاتی ہے کہ خدا نے مجھے میرے بزرگ واجب الاطاعت سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی دائمی زندگی اور پورے جلال اور کمال کا یہ ثبوت دیا ہے کہ میں نے اس کی پیروی سے اور اس کی محبت سے آسمانی نشانوں کو اپنے اوپر اُترتے ہوئے اور دل کو یقین کے نور سے پُر ہوتے ہوئے پایا اور اس قدر نشان غیبی دیکھے کہ اُن کھلے کھلے نوروں کے ذریعہ سے میں 66 نے اپنے خدا کو دیکھ لیا ہے۔“ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۴۰) سوئیں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے بزرگوں کو دی گئی تھی۔اور میرے لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر میں اپنے سید و مولیٰ فخر الا نبیاء اور خیر الوریٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے راہوں کی پیروی نہ کرتا۔سو میں نے جو کچھ پایا۔اُس پیروی سے پایا اور میں اپنے سچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اُس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کا ملہ کا حصہ پاسکتا ہے “ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۵،۶۴) اور فرماتے ہیں:۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اسلام ایسے بدیہی طور پر سچا ہے کہ اگر تمام کفار روئے زمین دعا کرنے کے لئے ایک طرف کھڑے ہوں اور ایک