شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 174 of 198

شرح القصیدہ — Page 174

شرح القصيده ۱۷۴ پاس مشتاقانہ تشریف لائے تھے۔ان مہربانیوں اور رحمتوں کو بھی یاد فرمائیں جو آپ نے مجھ پر فرمائی تھیں۔اور اُن بشارتوں کو بھی آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے دیتے تھے۔وہ وقت بھی یاد فرما ئیں جب بیداری میں آپ نے مجھے اپنا وہ جمال ، وہ چہرہ اور وہ صورت دکھائی تھی جو رشک بہا رتھی۔٢٢ - انّي لَقَد أُحْيِيتُ مِنْ اِحْيَائِهِ وَاهَا لِاعْجَارٍ فَمَا أَحْيَانِي ترجمہ۔یقیناً میں آپ کے زندہ کرنے سے زندہ ہوا ہوں سبحان اللہ ! کیا اعجاز ہے اور آپ نے کیا ہی اچھا مجھے زندہ کیا ہے۔شرح۔اوپر کے چند اشعار میں اس حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے کہ ہمیشہ کے لئے زندہ نبی اور جلال اور تقدس کے تخت پر بیٹھنے والا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، حضرت عیسی علیہ السلام نہیں۔وہ وفات پاچکے ہیں اور اُن کی تاثیر قدسی اور روحانیت کا دور ختم ہو چکا ہے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور تاثیر روحانی ہمیشہ کے لئے زندہ اور جاری وساری ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس روحانی زندگی کے ثبوت میں آپ نے اپنے وجود کو پیش کیا ہے اور اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت دیگر تمام انبیاء پر اور اسلام کی صداقت دیگر ادیان پر ثابت کی ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔” اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کا نام لے کر