شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 173 of 198

شرح القصیدہ — Page 173

شرح القصيده ۱۷۳ سامنے کھڑا ہوتا ہے اور آنحضرت بڑے جاہ وجلال اور حاکمانہ شان سے ایک زبر دست پہلوان کی طرح گرسی پر جلوس فرمارہے تھے۔پھر خلاصہ کلام یہ کہ ایک قاش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تائیں اُس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے زندہ ہوا اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں اور وہ ایک قاش میں نے اس نئے زندہ کو دے دی اور اُس نے وہیں کھالی۔پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھا چکا تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت کی گرسی مبارک اپنے پہلے مکان سے بہت ہی اونچی ہوگئی اور جیسے آفتاب کی کرنیں چھوٹتی ہیں ایسا ہی آنحضرت کی پیشانی مبارک متواتر چمکنے لگی کہ جو دین اسلام کی تازگی اور ترقی کی طرف اشارت تھی۔تب اُسی ٹور کو مشاہدہ کرتے کرتے آنکھ محل گئی۔والحمدينه على عليك " (براہین احمدیہ حصہ سوم روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۷۶،۲۷۵ حاشیه در حاشیه نمبرا) اور آپ نے ایک فارسی قصیدہ میں جو اسی ” آئینہ کمالات اسلام میں درج ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا اِن الفاظ میں ذکر کیا ہے۔یاد کن وقتیکه در کشتم نمودی شکل خویش یاد کن ہم وقت دیگر کآمدی مشتاق وار یاد کن آن لطف و رحمتها که با من داشتی و آں بشارتها که میدادی مرا از کردگار یاد کن وقتے چوبنمودی به بیداری مرا آں جمالے آں رُنے آں صورتے رشک بہار یعنی اے میرے محبوب! آپ وہ وقت یاد فرما ئیں جب آپ نے کشف میں مجھے اپنی شکل دکھائی تھی۔اور ایک اور موقع بھی یاد فرما ئیں جب آپ میرے