شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 169 of 198

شرح القصیدہ — Page 169

شرح القصيده ۱۶۹ - فَاعْلَمُ بِأَنَّ الْعَيْشَ لَيْسَ بِثَابِتٍ بَلْ مَاتَ عِيسَى مِثْلَ عَبْدٍ فَانٍ معانی الالفاظ۔کالیت - ہمیشہ رہنے والا۔۔ترجمہ۔جان لو کہ زندگی قائم و دائم نہیں۔بلکہ عیسیٰ بھی ایک فانی بندے کی طرح وفات پاگئے ہیں۔شرح۔دیوان خنساء میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ حضرت خنساء اپنے بھائی کو رو رہی تھیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُن کے گھر کے پاس سے گزرے تو آپ نے انہیں صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا۔" لَوْ خَلَد أَحَدٌ تَخَلَّدٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ “ کہ اگر کوئی زندہ چھوڑا جا سکتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص تھے جو زندہ رکھے جاتے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ آفَائِن مَّتَ فَهُمُ الْخَلِدُونَ۔(الانبياء: ۳۵) کہ اے رسول ! ہم نے تم سے پہلے کسی بشر کو غیر طبعی زندگی عطا نہیں کی۔بھلا ہو سکتا ہے کہ تو تو مر جائے اور وہ زندہ رہیں۔اس آیت میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ رکھی تو وہ چیز جاتی ہے