شرح القصیدہ — Page 14
شرح القصيده ۱۴ - كَم شَارِبِ بِالرِّشْفِ دَنا طَافِحا بہت تھے جو گم کے کم پی جاتے تھے فَجَعَلْتَهُ فِي الدِّينِ كَالنَّشْوَانِ لیکن تو نے ان کو دین کا متوالا بنا دیا كَمْ مُحْدِنٍ مُّسْتَنْطِقِ الْعِيْدَانِ کتنے بدعتی عُود بجانے والے تھے قد صَارَ مِنْكَ مُحَدَّثَ الرَّحْمٰنِ جو تیرے طفیل خدائے رحمان سے ہمکلام ہوئے - كَمْ مُسْتَهَامٍ لِلرَّشُوْفِ تَعَقُها بہت تھے جو معطر دہن عورتوں کے عشق میں سرگرداں تھے فَجَدِّيعَهُم جنبا إلَى الْفُرْقَانِ پھر تو نے انہیں فرقان کی طرف کھینچ ا أَحْيَيْتَ اَمْوَاتَ الْقُرُونِ بِجَلوَة تو نے صدیوں کے مُردے ایک جلوہ سے زندہ کر دیئے و ماذا يُمَائِلُك بهذا الشان کون ہے جو اس شان میں تیرا ہو سکے