شرح القصیدہ — Page 15
شرح القصيده ۳۲۔۱۵ تَرَكُوا الْغَبُوقَ وَبَدِّلُوا مِنْ ذَوقِهِ اُنہوں نے شام کی شراب چھوڑ دی اور اس کے ذوق کی جگہ ذَوقَ الدُّعَاءِ بِلَيْلَةِ الْأَحْزَانِ غم کی راتوں میں دعا کی لذت اختیار کی - كَانُوا برئاتِ الْمَقَانِى قَبْلَهَا بِرَيَّاتِ اس سے پہلے وہ سرنگیوں اور دو تاروں کی سُروں اور نغموں قد أحْصِرُوا فِي شُحِهَا كَالعَانِي اور رُوں رُوں کی آوازوں کی حرص میں قیدی کی طرح محبوس یا گرفتار تھے -۳۴ قد كَانَ مَرْتَعُهُمْ أَغَانِي دَائما ان کی محفلیں اور مجلسیں ہمیشہ راگ و رنگ تھیں طورًا بِغِيْد تَارَةٌ بيتان کبھی نازک اندام عورتوں کے ساتھ دل لگی ہوتی اور بھی کے کے حکم کنڈھائے جاتے -۳۵ مَا كَانَ فِكْرُ غَيْرَ فِكْرِ غَوَانِي انہیں خوبصورت گانے والی عورتوں او شُرْبِ رَاحِ أَوْ خَيَالِ جِفَانٍ یا شراب نوشی اور کا سہ ہائے شراب کے تصور کے سوا اور کوئی فکر نہ تھی