شرح القصیدہ — Page 138
شرح القصيده ۱۳۸ ہونے کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ اس لئے بھی ہے کہ آپ کا فیض تمام نبیوں کے فیض سے زیادہ ہے۔پہلے کسی نبی کو یہ مقام حاصل نہیں ہوا کہ اس کے فیض سے کسی کو نبوت کی نعمت ملی ہو اور وہ امتی نبی کہلایا ہو۔یہ اعزاز بوجہ خاتم النبیین ہونے کے صرف آپ ہی کو حاصل ہوا ہے۔ایک آپ ہی ہیں جن کی کامل اطاعت سے ایک مومن کو بوقت ضرورت مقامِ نبوت بھی حاصل ہو سکتا ہے۔اور یہ امر منافی آیت خاتم النبیین نہیں۔چنانچہ حضرت امام ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب ” موضوعات کبیر میں فرماتے ہیں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند ابراہیم زندہ رہتے اور نبی ہو جاتے یا حضرت عمر کو منصب نبوت حاصل ہو جاتا تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروہی رہے - وَ هَذَا لَا يُناقِضُ قَوْلَهُ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ إِذَا الْمَعْلَى أَنَّهُ لَا يَأْتِي بَعْدَهُ نَبِيٌّ يَنْسِحُ مِلَّتَهُ وَلَمْ يَكُن مِّنْ أُمته اور یہ اس کے قول خاتم النبین کے مخالف نہیں ہے کیونکہ خاتم النبین ہونے سے مراد یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔اسی طرح آپ نے لا نبی بعدی “ کے متعلق بھی یہی فرمایا ہے کہ اس کے معنے علماء کے نزدیک یہ ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی ناسخ شریعت محمد یہ نہیں ہوگا۔اور امام محمد طاہر السندی رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول ” قُولُوا إِنَّهُ 66 خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِى بَعده “ کے یہی معنے کئے ہیں کہ تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین تو کہولیکن یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا کیونکہ لا نبی بعدی سے مراد یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو شریعت محمدیہ کو منسوخ کرے۔