شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 129 of 198

شرح القصیدہ — Page 129

شرح القصيده ۱۲۹ تمت عَلَيْهِ صِفَاتُ كُلَّ مَرِيَّةٍ خُتِمَتْ بِهِ نَعْمَاءُ كُلِّ زَمَانٍ معانى الالفاظ - مزيّةٌ۔ہر وہ فضیلت جو علم ، سخاوت ، شجاعت یا شرافت وغیرہ صفات سے حاصل ہو جن کے ذریعہ سے انسان دوسروں سے ممتاز ہوتا ہے۔اس کی جمع مَزایا ہے۔نَعْمَاءُ - احسان ، آرام و آسائش ، خوشحالی ، مال۔اس کی جمع انعم ہے۔صِفَات - صِفَةٌ کی جمع ہے۔وہ علامات جن کے ساتھ موصوف کی شناخت ہوتی ہے۔ترجمہ ہر قسم کی فضیات کی صفات آپ میں علی الوجہ الاتم پائی گئیں اور ہر زمانے کی نعمت آپ کی ذات پر ختم ہے۔شرح۔اس شعر کی تشریح میں ایک مبسوط کتاب لکھی جا سکتی ہے۔اس میں مصنف قصیدہ نے اپنے محبوب آقا کی چند الفاظ میں ایسی جامع تعریف فرمائی ہے گو یا دریا کو گوزہ میں بند کر دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ وہ کمالات اور فضائل جن کے ساتھ انسان دوسری مخلوقات سے ممتاز ہوتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں اور ہر زمانے کی نعمت آپ کو کامل طور پر عطا کی گئی۔پہلے مصرعہ میں تو آپ کے بنی آدم میں سے کامل انسان ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بحیثیت انسان جس قدر فضائل و کمالات بلحاظ کمیت و کیفیت کسی انسان