شرح القصیدہ — Page 124
شرح القصيده ۱۲۴ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دلبر (اللہ تعالیٰ ) میں اس طرح محو ہو گئے کہ کمال اتحاد کی وجہ سے آپ کی صورت بالکل رب رحیم کی صورت بن گئی۔آپ کے رُوئے پاک سے محبوب حقیقی کی مہک آ رہی ہے۔آپ کی ذات حقانی صفات ذات قدیم ( اللہ تعالیٰ ) کا مظہر بن گئی۔۲۲ فلذا يُحِبُّ وَيَسْتَحِقُ جَمَاله شَغَفَّا بِهِ مِنْ زُمْرَةِ الْأَخْدَانِ معانى الالفاظ - الشَّغْفُ : أَقْصَى الْحُبَّ- انتہائی محبت اخدان - خذن کی جمع ہے۔صالح دوست۔زُهْرَةٌ۔گروہ ، جماعت۔اس کی جمع زمر ہے۔ترجمہ۔اسی لئے وہ محبوب ہے اور اُس کا جمال اس لائق ہے کہ دوستوں کی جماعت کو چھوڑ کر اس سے دل بستگی پیدا کر لی جائے۔شرح۔آپ فرماتے ہیں۔جب کہ میرا محبوب محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی ذات کا مظہر کامل ہے تو اس کامل وجود کو چھوڑ کر کوئی دوسرا محبوب کیوں بنایا جائے۔کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسری شادی کا ارادہ کیا۔اس کی بیوی نے قاضی سے درخواست کی کہ اُسے دوسری شادی کی اجازت نہ دی جائے۔تاریخ پیشی پر جب اُس کی بیوی سے دلیل طلب کی گئی تو اُس نے اپنے چہرہ سے نقاب اٹھادی اور کہا کہ