شرح القصیدہ — Page 114
شرح القصيده ۱۱۴ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس تقریر میں عرب کی قبل از اسلام حالت اور انقلاب پیدا کرنے والی اسلامی تعلیم کا مختصر ذکر کر دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس عظیم الشان انقلاب کا جو عرب قوم میں ایک نہایت قلیل عرصہ میں پیدا ہوا سورۃ فرقان کے آخری رکوع میں یوں ذکر فرمایا ہے:۔وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَ إِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا۔(الفرقان : ۶۴) یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رحمانیت کے ماتحت اپنے رسول کے ذریعہ تیار کئے ہیں اُن میں متکبرانہ روش کی جگہ تواضع اور انکساری آگئی ہے۔پہلے تو وہ نشہ میں مدہوش ہو کر تبخترانہ انداز میں چلنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔جیسے سمول بن عاد یا کہتا ہے ھے وَ إِذَا مَا اصْطَبَحْتُ اَرْبَعًا خَطَ مِيزَرِى یعنی جب میں صبح کو شراب کے چار گلاس پی لیتا ہوں تو میں نہایت متکبرانہ انداز میں چلتا ہوں اور میرا نہ بند زمین پر لکیر کھینچتا جاتا ہے۔“ لیکن اب اُن کی یہ حالت ہے کہ وہ زمین پر نہایت سکینت اور وقار کے ساتھ چلتے ہیں اور وہ پہلی سی پٹھوں پھوں اور تکبر اُن میں نہیں رہا اور وہ لوگوں سے لطف اور نرمی سے پیش آتے ہیں۔اسلام سے پہلے وہ جہالت یعنی لڑائی اور جنگ پر فخر کرتے تھے۔جیسے کہ عمرو بن كلثوم تغلبی کہتا ہے۔الا لا يَجْهَلَن اَحَدٌ عَلَيْنَا فَتَجْهَلُ فَوْقَ جَهْلِ الْجَاهِلِينَا