شرح القصیدہ — Page 113
شرح القصيده ۱۱۳ اے بادشاہ ! ہمارا یہ حال ہے کہ ہم جہالت اور گمراہی کے گڑھے میں گرے ہوئے تھے۔ہم بتوں کو پوجا کرتے تھے۔مُردار کھایا کرتے تھے۔گندی فحش باتیں بکتے تھے۔ہم میں کوئی انسانیت کی خوبی نہ تھی۔خداوند تعالیٰ نے جس کا فضل عام جہان پر چھایا ہوا ہے محمد کو اُس پر اللہ کی رحمت اور عنایت ہو ہمارے لئے رسول کر کے بھیجا۔اُس کی شرافت نسب اور راست گفتاری ، صفا باطنی اور دیانتداری سے ہم خوب آگاہ ہیں۔اُس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی ظاہر فرمائی اور وہ اللہ کا یہ پیغام لے کر ہمارے پاس آیا کہ سرف ایک خدا پر ایمان رکھو۔اس کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔بتوں کی پرستش مت کرو۔راست گفتاری اپنا شعار ٹھہراؤ۔امانت میں کبھی خیانت نہ کرو۔اپنے تمام ابنائے جنس سے ہمدردی رکھو۔پڑوسیوں کے حقوق کی نگہداشت کرو۔عورت ذات کی عزت کرو۔یتیموں کا مال نہ کھاؤ۔پاکیزگی اور پر ہیز گاری کی زندگی اختیار کرو۔خدا کی عبادت کرو۔اُس کی یاد میں کھانا پینا تک بھول جاؤ۔راہ خدا میں غریبوں کی مدد کے لئے خیرات کرو۔اے بادشاہ! صرف اس ایمان لانے پر ہمیں وہ ایذائیں دی گئیں کہ ہمیں بال بچے ، گھر بار تک چھوڑ کر جلا وطن ہونا اور راہ غربت اختیار کرنا پڑا ہے۔ہمیں اپنے دیس میں کہیں پناہ نہ ملی۔آخر ہم سب پر دیسیوں نے تیرے ملک میں آکر پناہ لی ہے۔تیرے انصاف اور رحم سے ہمیں اُمید ہے کہ تو غریبوں پر ظلم نہ ہونے دے گا۔“ سوانح عمری حضرت محمد صاحب مؤلّفہ پر کاش دیو جی صفحه ۳۶، ۳۷)