شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 101 of 198

شرح القصیدہ — Page 101

شرح القصيده 1۔1 مُسْتَنْطِقُ اسْتَنْطَقَهُ : كَلَّمَه - یعنی اُس سے کلام کیا ، اس سے خواہش کی کہ وہ بولے۔العِيْدَانُ - عُود کی جمع ہے۔سُرنگی یا عُود۔ترجمہ۔کتنے ہی بدعتی عود یا سرنگی بجانے والے تیرے طفیل خدائے رحمن سے ہم کلام ہوئے۔شرح۔بہت سے ایسے بھی تھے جو سرنگی ، عود اور رباب بجاتے اور اُن کی سروں پر راگ گاتے تھے۔لیکن اے میرے مطاع تیری متابعت کے ذریعے وہ اپنے محبوب ازلی سے ہمکلام ہوئے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا۔پہلی امتوں میں محدث گزرے ہیں۔جن سے خدا ہمکلام ہوتا تھا۔اور اُن کی زبان پر فرشتے بولتے تھے۔میری اُمت میں بھی ایسے افراد ہوں گے۔اُن میں سے ایک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو قرار دیا۔اس شعر کے لفظ مُحدث اور مُحدّث میں علم بدیع کی صنعت متجانس لفظی پائی جاتی ہے۔كُمْ مُسْتَهَامٍ لِلرَّسُوْفِ تَعَشُها فَجَذَبْعَهُمْ جَنْبَا إِلَى الْفُرْقَانِ معانی الالفاظ - مُسْتَہاه کہتے ہیں اسْتَغْيَمَ فُؤَا دُہ۔اس کا دل اور عقل محبت و عشق میں کھوئے گئے۔اور ایسے شخص کو مُسْتَهَامُ الْفُؤَادِ کہتے ہیں۔