شرح القصیدہ — Page 55
شرح القصيده ۵۵ بدر تام اور قمر منیر کی طرح ہوگا۔باقی بارہ صدیوں میں بارہ مجد دآئیں گے جو بارہ برجوں کی طرح ہوں گے اور جس طرح ظاہری چاند سورج کی روشنی سے منورہوتا ہے اسی طرح مجد دینِ امت محمدیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نور حاصل کریں گے۔گویا اُن کا ٹو را پنا ذاتی ٹور نہیں ہوگا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مُكتسب ہوگا اور ہر ایک اُن میں سے مجد دصدی چہار دہم کی طرح یہی کہے گا۔ای آتشم ز آتش مهر محمد بیست و این آب من ز آب زلال محمد است آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۴۵) اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اقرار کرے گا کہ : ” وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے۔جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم از لی ہے۔۔۔۔۔۔۔اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۱۹) پس در حقیقت روحانی لحاظ سے رات ہو یا دن وہ آپ ہی کے نور سے منور ہیں۔