شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 36 of 198

شرح القصیدہ — Page 36

شرح القصيده ۳۶ يسعى : سعی ماضی سے مضارع کا صیغہ ہے جس کے معنے کوشش کرنے ، چلنے اور دوڑنے کے ہیں۔سعی الیہ کے معنے ہیں قصدۂ اس کا قصد کیا۔الْخَلْقُ : النَّاسُ یعنی لوگ۔الظمانُ : مفرد ہے۔اس کی جمع ظماء ہے۔ظمی کے معنے ہیں اُسے سخت پیاس لگی۔الظُّمُان سخت پیاسا۔ظَمی الیہ کے معنے ہیں اشتاق، اس کا مشتاق ہوا، اس کی طرف شوق کا اظہار کیا۔ترجمہ۔اس شعر کے اردو میں دو ترجمے ہو سکتے ہیں۔ا۔اے اللہ تعالیٰ کے فیض اور عرفان کے چشمے ! لوگ سخت پیاسوں کی مانند تیرا قصد کر رہے ہیں۔۲۔اے اللہ تعالیٰ کے مجسم فیض و عرفان ! لوگ تیری طرف مشتاق وار دوڑے آتے ہیں۔شرح۔اس شعر سے جو قصیدہ کا مطلع ہے مصنف قصیدہ کا اپنے ممدوح سے کمال درجہ کا عشق ظاہر ہوتا ہے۔اکثر شعراء کے قصائد کے ابتدائی اشعار میں تشبیب پائی جاتی ہے جس میں وہ اپنے محبوب کے متعلقات اور اس کی ظاہری صفات کا ذکر کرتے ہیں جو شاعر کے دل میں محبوب کی یاد پیدا کرتی اور اس کی آتشِ محبت کو تیز کرتی ہیں۔مثلاً امرئ القیس کے قصیدہ میمیہ کا مطلع یہ۔ایہ ہے۔قف بِالرِّيَارِ الَّتِي لَمْ يَعْفُهَا الْقَدَمُ غَيْرَهَا الْأَرْوَاحُ وَ بلى الريم