شرح القصیدہ — Page 152
شرح القصيده ۱۵۲ جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ آسمان پر زندہ اُٹھائے گئے ہیں اور قریباً دو ہزار سال سے زندہ ہیں۔آخری زمانہ میں نازل ہوں گے اور ساری دنیا کو راہِ راست پر لائیں گے۔اور یہی عقیدہ مسلمانوں کا بھی ہے کہ وہ دجال کو قتل کریں گے۔یا جوج ماجوج کو تباہ کریں گے اور انہیں وہ کامیابی حاصل ہو گی جو کسی نبی کو پہلے نہیں ہوئی۔اس لئے کسی اور کو اُن پر فضیلت دینا درست نہیں ہے۔اس شعر میں اس سوال کا یہ جواب دیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں۔اس جگہ ایک مکالمہ کا ذکر کر دینا مناسب خیال کرتا ہوں جو مجھ سے اور علاقہ شام کے انچارج مشنری الفریڈ نیلسون ڈاینمر کی کے وکیل ابراہیم نامی سے جو شامی تھا ۱۹۲۶ ء کے اوائل میں دمشق کے مقام پر ہوا تھا۔وہ مجھ سے ملنے کے لئے میرے مکان پر آیا اور مذہبی گفتگو کرنی چاہی۔میرے دریافت کرنے پر کہ آپ کس موضوع پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں اُس نے کہا۔کیا خداوند یسوع مسیح افضل تھے یا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )۔میں نے پوچھا آیا قرآن مجید کی رُو سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں یا انجیل کی رُو سے۔اُس نے جواب دیا قرآن مجید کی رُو سے۔میں نے کہا قرآن مجید کی رُو سے تو حضرت مسیح کا درجہ ایسا ہی ہے جیسے اُستاد کے مقابل میں شا گرد کا۔اُس نے حیرانی کا اظہار کیا۔میں نے کہا آپ وہ آیت پیش کریں جس سے آپ مسیح" کا افضل ہونا سمجھتے ہیں۔اُس نے کہا قرآن میں ہے کہ فرشتہ نے حضرت مریم“ کو بشارت دی که لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيا تجھے پاک لڑکا دیا جائے گا۔قرآن مجید میں کسی اور نبی کے حق میں ایسا نہیں کہا گیا کہ وہ گناہوں سے پاک اور بے عیب ہوگا۔ذکی کے لفظ کا کسی اور نبی کے حق میں استعمال نہ ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ مسیح “ ہی بے عیب