شرح القصیدہ — Page 136
شرح القصيده چونکہ آسمانی بادشاہت یقیناً اُن سے چھینی جا چکی ہے اس لئے مانا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح کی دعا جو آپ نے اُن سے گناہ بخشے جانے کے لئے کی تھی قبول نہیں ہوئی ہے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا کہ اے میرے رب ! میری قوم کو ہدایت دے قبول ہوگئی اور اس کی مقبولیت فتح مکہ کے روز بڑی شان و شوکت اور ایسی صفائی سے ظاہر ہوگئی کہ سارے عالم میں کسی دشمن کے لئے گنجائش انکار باقی نہ رہی۔یعنی جب نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن اپنے تمام دشمنوں کو معاف فرما دیا تو وہ سب کے سب ایمان لے آئے اور ہدایت یاب ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ آپ کی دعا کی مقبولیت کا عظیم الشان نشان بن گئے۔(شرح زرقانی الفصل الثانی فیما اکرمه الله تعالى به من الاخلاق الزكية۔۔۔۔جلد ۲ صفحه ۹ ۱ مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت - لبنان طبع اولی) اللہ تعالیٰ کے فضل سے سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف عفو و درگزر اور حسن سلوک ہی میں بے نظیر تھے بلکہ انسانی کمالات میں شمار کی جانے والی تمام صفات مثلاً جرات و شجاعت ، غیرت و حمیت ، رافت و رحمت ، جود و سخا، صدق و صفا، لطف و عطا ، ایثار و وفا ، استقلال و استقامت ، صبر و قناعت ، توکل علی اللہ ، شفقت علی خلق اللہ وغیرہ میں انتہائی نقطہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے۔جو دوست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ اور ان نعمتوں کے متعلق جو آپ کو دوسرے انبیاء کے مقابلہ میں بڑھ کر میں مفصل دیکھنا چاہیں تو وہ حضرت امام جماعت احمدیہ کی تفسیر کبیر سورۃ کوثر کی تفسیر مطالعہ فرمائیں۔