شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 104 of 198

شرح القصیدہ — Page 104

شرح القصيده ۱۰۴ سے چند دن کے لئے علیحدگی اختیار کی تو وہ بچھڑے کو پوجنے لگ گئے۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کے ماننے والے بھی تھوڑی ہی مدت کے بعد شرک میں مبتلا ہو گئے اور خود مسیح کی عبادت کرنے لگے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ و انفاس طیبہ سے صدیوں کے مُردے یکدفعہ زندہ ہو گئے اور دنیا نے ایک بے نظیر انقلاب دیکھا۔وہ جزیرہ عرب جو بت پرستی کے سوا کچھ نہ جانتا تھا وہ تھوڑے ہی دنوں میں ایک سمندر کی طرح توحید الہی سے بھر گیا۔اور آپ نے اپنی اُمت کو ایسے رنگ میں توحید الہی کا سبق پڑھایا کہ وہ اُسے کبھی فراموش نہ کر سکی اور شب و روز مساجد کے بلند میناروں سے لا إلهَ إِلَّا اللہ کا اعلان کرتی رہی۔الغرض اللہ تعالیٰ کے کامل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جس قسم کا احیاء عرب میں رونما ہوا اس کی نظیر دنیا کی کسی قوم اور ملک میں نہیں پائی گئی۔حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔آپ جس قوم میں مبعوث ہوئے اُس پر ایسی تباہی و بربادی آئی ہوئی تھی جس کی نظیر دنیا میں بہت ہی کم پائی جاتی ہے۔مگر پھر خدا تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ ہی آپ کے ہاتھ پر اس مردہ قوم کو زندہ کر دیا اور اُسے دنیا کا فاتح اور حکمران بنادیا۔عجیب بات یہ ہے کہ اور بیمار تندرست ہونا چاہتے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علاج کے لئے جو بیمار ملاوہ ایسا تھا جو اپنی زندگی کا خواہاں نہیں تھا بلکہ چاہتا تھا کہ مرجائے اور اس کا وجود دنیا سے مٹ جائے۔مگر پھر وہی بیمار جو مر جانا چاہتا تھا، جو زندگی کا ملنا ناممکن سمجھتا تھا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے اچھا ہوا۔زندہ ہوا