شان مسیح موعود — Page 63
فضائل مخصوصہ کے ساتھ مل کر حضرت عیسی علیہ السلام سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہونے کا موجب ہوئی۔پس نبوت کے عقیدہ میں تبدیلی بطور جمل کے ہوئی اور فضیلت کے عقیدہ میں تبدیلی اس کی فرع ہوئی۔اور شیخ مصری صاحب کا یہ دہم باطل ثابت ہوا کہ حضرت اقدس کے جواب کی عبارت میں عقیدہ ثبوت میں تبدیلی کا کوئی ذکر نہیں۔ہذا جب یہ ثابت ہو گیا کہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے" کی نقیض یہ ہے کہ یہ ایک جزئی فضیلت نہیں جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے اور اس کے لازم المساوی نقیض یہ ہے کہ ” یہ ایک ایسی فضیلت ہے جو نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے، تو حضرت اقدس کا حضرت عیسی علیہ سلام پر اپنی تمام نشان میں بہت بڑھ کر ہونے کا عقیدہ اس جوئی فضیلت کے عقیدہ سے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔متناقض عقیدہ ہونے کی وجہ سے آپ کی نبوت کو مستلزم ہوا۔لہذا اب خواہ اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہونے کو جزئی فضیلت کے پہلے عقیدہ امتیاز کے لئے کھلی فضیلت " کا نام دیا جائے۔ان معنوں میں کہ آپ اپنی مجموعی نشان میں حضرت عیسی علیہ السلام سے بہت بڑھ کر ہیں یا اسے ایسی جزئی فضیلت قرار دیا جائے جو صرف نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔دونوں صورتوں میں حضرت اقدس علیہ اسلام کا نبی ہونا ثابت ہے۔لہذا شیخ مصری صاحب کا یہ لکھنا کہ تبدیلی عقیدہ کے بعد بھی آپ کی فضیلت جاری ہی رہی۔ان معنوں میں تو تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ اسے ایسی جزئی فضیلت قرار دیا جائے سے