شان مسیح موعود — Page 95
۹۵ کی قوم اور خاندان میں سے پیدا کرتا ہے تا ان کے قبول کرنے اور ان کی اطاعت کا جوا اُٹھانے میں کسی کو کراہت نہ ہو۔ا تریاق القلوب صفحہ ۲۷- ایڈیشن مطبوعہ یکٹر پر قادیان صفحه ۱۳۲-۱۳۳) پس حضرت اقدس پہلی قسم کے اولیاء اللہ کے زمرہ کا فرد نہیں بلکہ دوسری قسم کے اولیاء اللہ کا فرد ہیں اور نبی اور رسول ہو کر فرد ہیں۔کیونکہ تبدیلی عقیدہ پر حضور نے اپنی تمام شان میں حضرت مسیح بن مریم سے بہت بڑھ کر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔اور یہ بات اپنے آپ کو نبی قرار دینے کے بغیر ناممکن اور محال ہے۔شیخ مصری صاحب کی تضاد بیانی حقیقت کے قرین کے لیے اعتراف کہ حضرت اقدس کو نبی کا نام کا میں صفت کی وجہ سے ملا ہے ، پھر آپ کو زمرہ کاربن انبیاء سے خارج قرار دینے کے لئے لکھا ہے :- " گو ہر ایک محرکت حق رکھتا ہے کہ اس کو نبی کہا جائے۔لیکن حکمت و مصلحت الہی نے اس لفظ کے مخفی رکھنے کو ترجیح دی۔آنے والا سیح بھی محمد ثمین کی جماعت کا ہی ایک فرد تھا لیکن وہ کامل محدت تھا۔اس کی مشابہت انبیاء سے نام تھی۔دوسرے وقت آگیا تھا کہ عظمت اسلام کے اظہار کی معلوت کو بروئے کار لایا جائے اس لئے اس کے حق میں ظاہراً بھی نہیں کے استعمال کو جائز کر دیا لیکن اسی علمی نبوت ناقصہ اور جوئی نبوت