شان مسیح موعود — Page 94
۹۴ اسی وجہ سے اولیاء اللہ میں نبوت مخفی رہی اور حضرت مسیح موعود کو کھلے طور پر نبی کا نام دیا گیا۔خدا کا شکر ہے کہ شیخ مصری صاحب نے اپنے اس بیان سے احمدیوں کے لاہوری فریق کو ایک ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ اگر وہ ذرا تدیر سے کام لیں تو انہیں حضرت اقدس کا درجہ نبوت ، نفس نبوت یا نبوت مطلقہ کے لحاظ سے زمرہ انبیاء کا فرد ہونا آسانی سے سمجھ میں آسکتا ہے۔واضح رہے کہ زمرہ اولیار کے فرد بھی حضرت اقدس ضرور ہیں زمرہ اولیاء سنگر آپ ایسے اولیاء اللہ کے زمرہ کا فرد ہیں جو مامور ہوتے نہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام تحریر فرماتے ہیں :- ایسے اولیاء اللہ خو مامور نہیں ہوتے یعنی نبی یا رسول یا محدث نہیں ہوتے اور ان میں سے نہیں ہوتے جو دنیا کو خدا کے حکم اور الہام سے تعدا کی طرف بلاتے ہیں اس لئے ایسے ولیوں کو کسی اعلیٰ خاندان یا اعلیٰ قوم کی ضرورت نہیں کیونکہ ان سب کا معاملہ اپنی ذات تک محدود ہوتا ہے۔لیکن ان کے مقابل پر ایک دوسری قسم کے ولی ہیں جو رسول یا نبی یا محترت کہلاتے ہیں۔وہ تعدا تعالے کی طرف سے ایک منصب حکومت اور قضا کا لے کر آتے ہیں اور لوگوں کو حکم ہوتا ہے کہ ان کو اپنا امام اور سردار اور پیشوا سمجھ لیں اور جیسا کہ خدا تعالے کی اطاعت کرتے ہیں اس کے بعد ان نائیوں کی اطاعت کریں۔اس منصب کے بزرگوں کے متعلق قدیم سے خدا تعالے کی یہی عادت ہے کہ ان کو اصلئے درجہ