شان مسیح موعود — Page 50
مسیح علیہ اسلام کے مقابلہ میں کچھ چیز نہیں سمجھا۔دو مختلف اور نقیض باتوں کا قائل ہوتا ہے۔کیونکہ کمالات کا بڑھے کہ یا افضل ہونا اور پھر اُن کے فلی ہونے کی وجہ سے شیخ صاحب کا حضرت اقدس کو حضرت عیسی علیہ السلام کے مقابلہ میں کچھ چیز نہ سمجھنے کا موجب کہنا یعنی ادنی سمجھنے کا موجب قرار دینا صاف طور پر اجتماع التقیضین ہے۔شیخ صاحب ! سنیئے یا حضرت اقدس کے قلمی کمالات واقعی حضرت عیسی علیہ سلام کے کمالات سے بڑھ کر یا افضل تھے۔مگر ان افضل کمالات کے خلی ہونے کی وجہ سے حضرت اقدس نے یہ نہیں کہا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے ؟ " بلکہ یہ کہنے کی وجہ نہی درست ہے کہ جو شیخ صاحب آپ نے پہلے بیان کی ہے کہ ولی گو کیسے ہی بلند مرتبہ پر پہنچ جائے وہ پہنچی کہے گا کہ میری نبی سے کیا نسبت ہو سکتی ہے ؟ پس مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے کہہ کر حضرت اقدس نے حضرت مسیح علی اسلام سے کلیتہ نسبت رکھنے سے انکار نہیں کیا کیونکہ محدث بھی بنی کے مقابلہ میں ناقص نبی ہونے کی وجہ سے جزوی نسبت تو ضرور رکھتا ہے۔ہاں کئی نسبت یا کامل نسبت نہیں رکھتا۔ہیں کیا نسبت ہے کے الفاظ میں اس وقت حضرت اقدس نے حضرت عیسی علیہ السلام سے کامل نسبت رکھنے سے انکار کیا ہے ورنہ جوئی نسبت تو آپ حضرت عیسی علیہ اس نام سے اس وقت سے بھی پہلے اپنے آپ کو محدث جانے کی وجہ سے ضرور سمجھتے تھے تبھی تو حضرت عیسی علی ارت لام پس اس وقت اپنی جزئی فضیلت کا اظہار کرتے تھے خود