شان مسیح موعود — Page 51
اه جزئی فضیلت بھی تو ایک نسبت ہی ہے۔ہاں یہ گھی یا کامل نسبت نہیں ہوتی۔اس لئے حضرت اقدس اپنے حاصل کو وہ علی کمالات کو نبوت کے بغیر اس وقت حضرت عیسی علیہ اسلام سے افضل ہی سمجھتے تھے۔تبھی انا پر جوئی فضیلت کے قائل تھے لیکن چونکہ آپ اپنے آپ کو محدث یا ناقص نبی سمجھتے تھے اس لئے نبوت میں حضرت عیسی علیات کلام سے ناقص نسبت سمجھنے کی وجہ سے آپ نے از راہ انکسار بصورت مبالغہ یہ فرمایا ہے کہ محمد کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے " جس طرح سیاللہ کے الفظ میں ہی شیخ صاحب نے کیا نسبت ہے " کا مفہوم یہ ستایا ہے کہ حضرت اقدس نے بیج کے مقابلہ میں اپنے آپ کو کچھ چیز ہی نہیں سمجھا۔ورنہ یہ تو شیخ صاحب کو بھی اعتراف ہے کہ حضرت اقدس اپنے کئی دوسرے کمالات میں اس وقت بھی رو حضرت عیسی علیہ اسلام سے بڑھ کر تھے۔اس وقت الهام " انتَ اَشَدُّ مُنَاسَبَة بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَاشْبَهُ النَّاسِ بِهِ خُلُقًا وَخَلْقًا وَنَمَانا " کے رُو سے آپ نبوت کے بغیر حضرت عیسی علیہ اسلام سے اپنی شدید مناسبت اور مشابہت ہی سمجھتے تھے، کیونکہ اس الہام کے یہ معنی ہیں کہ تو عیسی ابن مریم سے شدید ترین مناسبت رکھتا ہے اور خلق ، در خلقت اور زمانہ کے لحاظ سے اس سے سب لوگوں سے پڑھ کو مشابہت رکھتا ہے" حضرت اقدس نے حامتہ البشری " صفحہ ے پر لکھا ہے۔لكم مِن كَمَالٍ يُوجَدُ فِي الْأَنْبِيَا بِالْقِصَالَةِ يَحْضُنُ لَنَا أفضَلَ مِنْهُ وَ أولى بالطَّرِيقِ الظَّلَيّة۔