شان مسیح موعود — Page 28
کے عقیدہ کو اختیار کرنے کا ذکر فرما رہے ہیں۔اور یہ دونوں کتابیں دعوئی مسیح موعود کے بعد کی ہیں۔پس حقیقۃ الوحی کی یہ عبارت مولوی محمد علی صاحب کے اس خیالی نظریہ کی متحمل نہیں۔ہماری جماعت حقیقۃ الوحی" کی زیر بحث عبارت سے یہ سمجھتی ہے کہ ھوٹی مسیح موعود کے بعد حضرت اقدس نے حضرت مسیح ابن مریم سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہونے کا عقیدہ اس وقت اختیار کیا جبکہ آپ پر خانہ ہے کی متواتر وحی سے یہ انکشاف ہو گیا کہ آپ کو صریح طور پر نبی کا خطاب دیا گیا ہے۔اس انکشاف پر آپ نے حضرت عیسی علیہ السلام سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہونے کا اعلان بھی فرما دیا۔ورنہ اس سے پہلے دھوئی میسج میشود کے بعد جب تک حضرت اقدس اپنے آپ کو نبی معنی محمدت سمجھتے رہے جو ناقص نبی ہونے کی وجہ سے غیر نبی ہی ہوتا ہے۔حضرت مسیح علیات نام پر اپنی فضیلت کے متعلق الہامات کی تاویل کر کے حضرت عیسے علیہ السلام پر اپنی بہنوئی فضیلت کے ہی قائل رہے جو ایک غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔پس ہمارے نزدیک جب تک حضرت اقدس دعوئی میسج موجود کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام سے نبوت میں اپنی پوری نسبت نہیں سمجھتے تھے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کو نبی سمجھتے تھے اور اپنے آپ کو ناقص نبی اور محدث، اس وقت تک آپ اپنے الہامات میں اپنے متعلق نبی اور رسول کے الفاظ کی تاویل محدث یا ناقص نبی یا جزئی نہی کرتے تھے کیونکہ محمدت آپ کے نزدیک نبوت نا قصہ کا حامل ہوتا ہے اور غیر نبی ہوتا ہے۔کیونکہ وہ پورانہی