شان مسیح موعود — Page 222
۲۲۲ دُور کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ آپ نے وفات مسیح کے عقیدہ اور اپنے میسج موجود ہونے کے بارے میں قرآن و حدیث سے اپنی اس وحی کی تائید حاصل کرنا چاہی۔پس حضرت اقدس کو اس وحی کے منجانب اللہ ہونے کے بارے میں ایک لحظہ کے لئے بھی تو دو اور شک پیدا نہیں ہوا تھا۔حضور ایک غلطی کا ازالہ میں خود تحریر فرماتے ہیں :- " مجھے اس خدا کی قسم ہے میں نے مجھے بھیجا ہے اور میں پر افتراء کرنا شتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعود بتا کہ مجھے بھیجا ہے اور مکن جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کہ یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک دھی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا کلام منزل کیا تھا۔میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔اس طرح پھر میرے لئے آسمان کبھی بولا اور زمین بھی کہ میں تخلیقہ اللہ ہوں" (ایک غلطی کا ازالہ) اسی طرح تجلیات الہیہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔یہ مکالمہ الہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔اگر میں ایک قسم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آسمت تباہ ہو جائے۔وہ کلام جو میرے پر نازل ہو ا یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ